حضرت محمد عربی ﷺکا یوم ولادت اور اس پر خوشی و مسرت کا اظہار ؟, آیات قرآنیہ, احادیث نبویہ اور اقوال سلف صالحین کی روشنی میں ایک مدلل تحریر:

مولانا) محمد عارف حسین مصباحی برکاتی

ہم اپنے رب عز و جل کا بے پایاں شکر و احسان اداکرتے ہیں کہ اس نے ہمیں اتنی نعمتوں سے نوازا کہ ہم ان کو شمار نہیں کر سکتے ( ابراہیم آیت : 34)اور بقول صوفیا کرام اگر بندہ اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ہر ہر سانس پر ادا کرنا چاہے جب بھی وہ کما حقہ اس کا شکر ادا نہیں کر سکتا(ماخوذ مقدمہ گلستاں از شیخ سعدی شیرازی ) لیکن اس کی عظمت و کبریائی کے جلوے تو دیکھئے کہ اس ذات والا ستودہ صفات وحدہ لاشریک نے اس خاکدان گیتی پر اپنی سب سے عظیم نعمت محمد عربی ﷺ کی جلوہ گر ی کرکے صرف ہم اہل ایمان پر احسان جتایا ( آل عمران آیت :164)اور کیوں نہ احسان جتائے جب کہ آ پ ﷺ کائنات عالم کی بو قلمونیوں میں رحمۃ ا للعالمین بن کر ( ( الانبیا ء آیت : 107) )بقول جمہور علماء اسلام اصحاب فیل کے واقعہ کے 55دن بعد 15اپریل571ء 12/ بارہ ربیع الاول (ا لنور) بروز دوشنبہ (پیر)بوقت صبح صادق ( ماہنامہ اشرفیہ شمارہ فروری2011ء ) تشریف لائے ۔

آپ ہی وجہ تخلیق کائنات ہیں سب کا سب آپ ہی کے صدقہ میں رب تعالی نے وجود بخشا(ماخوذ :المستدرک للحاکم، مکتبة نزار مصطفیٰ الباز بیروت ۴/۱۵۸۳، رقم:۴۲۲۷) آپ ہی کے صدقے میں تمام انبیاء کو نبوت ملی اور ان انبیاء کرام علیہم الصلواۃ و السلام سے سر کا ر ﷺ کی نصرت و اعانت کا وعدہ ﷲ جل مجدہ نے عالم ارواح میں لیا( آل عمران آیت :81) آپ کی آمد کے لئے ابراہیم خلیل ا ﷲ علیہ ا لسلام نے دعا کی ( البقرۃ آیت : 129 ) آپ کی بشار ت حضرت عیسیٰ مسیح ا ﷲ علیہ ا لسلام نے دی (الصف آیت 6 )آپ کی بعثت کا مقصد قرآن پاک جیسی عظیم کتاب کی تلاوت کرنا، لوگوں کو کفر و شرک کی آلائشوں سے صاف ستھرا کرنا اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دینا تھا ( آل عمران آیت :164 ) آپ اتنے مہربان کہ آپ کے قلب ناز پر اہل ایمان کا مشقت میں پڑنا بہت گراں گزرتا، لوگوں کی ہدایت کے ہمیشہ طالب رہتے اورمومنین پر نہایت شفیق اور حد درجہ مہربانی فرمانے والے ہیں ( التوبہ آیت : 128)۔

رب تعالی عز وجل کی جانب سے آپ جیسے خاتم ا لنبیین ( آخری نبی) ( الاحزاب : آیت 40) کی تشریف آوری کی خوشی میں ماضی بعید اور قریب کی طرح آج بھی پورا عالم اسلام خوشی و مسرت کا اظہار کرتا ، اپنے گھروں میں چراغاں کرتا ، جھنڈے لگاتا, جگہ جگہ آپ ﷺ کے ذکر جمیل کے لئے محفل کا انعقاد کرتا ، غرباء و مساکین کی امداد و اعانت کرتا اس کے علاوہ بحیثیت توفیق الہی ہر اہل ایمان اپنی خوشی و مسرت کے اظہار کے لئے جائز طریقہ اپنا نے کی کوشش کر تا, “ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء (الجمعۃ آیت 04) بقول سعدی “ایں طاقت بزور بازو نیست تا نہ بخشد خدائے بخشندہ, اس کے باوجود عصر حاضر میں بعض شرک و بدعت کی دلدادہ جماعتوں نے اس خوشی و مسرت میں بھی شرک و بدعت (سیۂ) کا پہلو تلاش کرلیااور’’ معاذ ﷲ ’’ہندوؤں کے دیوتا “کنہیا”کے جنم دن سے “عید مولدالنبی” کو تشبیہ دیا‘‘ اورجمہور امت مسلمہ کے میلاد النبی پر فرحت و شادمانی کے نظریہ پر اعتراض کیا اور اسے گم راہی کا راستہ قرار دیا۔یا للعجب!

جس سے ایک عام آدمی پریشان ہو تا ہے کہ ” خدا وندا یہ تیرے سادے دل بندے کدھر جائیں ! کیا رسول ﷲ کے یوم پیدائش پر ازروئے قرآن و حدیث خوشی اور مسر ت کا اظہار کرناجائز ہے؟,کیا سلف صالحین سے رسول ﷲ کی یاد میں ایسی محفل کاانعقاد کرنا ثابت ہےجس میں منقول اور مستند روایات کا تذکرہ کیا جائے ؟، ولادت مبارکہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات اور خارق ا لعادات واقعات بیان کرنے پر ثواب کی بشارت بھی ہو ؟
سوالات, اعتراضات اور ان کے جوابات مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ ، احادیث نبویہ اور اقوال سلف صالحین کی روشنی میں حاضر ہیں “گرقبول افتد زہے عز و شرف” …
(1) عید میلاد النبی کا اثبات اور آیات قرآنیہ .. ﷲ جل مجدہ اپنے مقدس کلام میں ارشاد فرماتا ہے ’’ اور تم اپنے رب کی نعمتوں کا خوب چرچا کرو ( الضحیٰ : آیت 11) دوسری جگہ ارشاد فرمایا ’’ اور تم ﷲ کی نعمتوں کو یاد کرو ( المائدہ :آیت :7)اور ایک موقع سے ارشاد ہوا کہ ’’ اور تم فرماؤ کہ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوب خوشیاں مناؤ ‘‘( یونس : آیت 58) ۔ ان آیات بینات میں اﷲ رب العزت اپنی نعمتوں کے چرچا کرنے ، انہیں یاد کرنے اور ان پر خوب خوب خوشیاں منانے کا حکم دے رہا ہے اور ارباب علم و دانش جانتے ہیں کہ بعثت تخلیق کائنات سرکار ﷺ ہی سب سے بڑی رب تعالیٰ کی نعمت اور اس کے فضل و رحمت کے مظہر کامل ہیں جن کی بعثت پر ﷲ پاک نے اہل ایمان پرا حسان جتایا ( آل عمران آیت :164) لہذا آپ ﷺ کی پیدائش پر خوشی و مسرت کا اظہار کرنا اور جشن منانا کیا حکم قرآنی کے مطابق نہیں ؟

(2)سرکار ﷺ کی بعثت سے پہلے انبیاء کرام نے بھی اپنی خوشی اور مسرت کا اظہار کیااور ان کا ذکر کیا جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ ا لسلام نے آپ کی آمد سے پیشتر آپ کی ولادت کی دعاء کرتے ہوئے خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت رب کی بارگاہ میں ایک نبی برحق کے آنے کی دعا کی جو لوگوں کو کفر و شرک کی آلائشوں سے پاک و صاف رکھے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے ( البقرۃ ْ: آیت: 129 ) ۔ حضرت عیسیٰ مسیح ا ﷲ علیہ السلام نے آپ ﷺ کی بشارت کی خوشخبری 570ء سال پہلے دیتے ہوئے فرمایا کہ ’ ’ میں ایسے رسول کی بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد آنے والا ہے جن کا نام پاک ( آسمانوں میں) احمد ہوگا ( الصف : آیت : 6), کیا ان آیات سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ سرکار ﷺ کی ولادت پر خوشی و مسرت کا اظہار کرنا ان کی پیدائش کا ذکر کرنا صرف ہم مسلمانوں کا ہی طریقہ نہیں بلکہ سنت انبیاء بھی ہے؟ ۔

(3)حضرت عیسیٰ علیہ ا لسلام نے اپنے عقیدت مندوں کی خواہش پر آسمان سے دستر خوان نازل ہونے کی دعا کی تاکہ وہ اس دن خوشیاں منائیں جیسا کہ قرآن فرماتا ہے ’’ اے ہمارے رب ہم پر آسمان سے دسترخون نازل فرما تاکہ وہ ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لئے تری جانب سے (عید)خوشی کا سامان ہوجائے ( المائدہ :آیت : 114) دستر خوان نازل ہونے سے اب تک عیسائی قوم یکشنبہ ( اتوار) کو جشن مناتی ہے تو کیا قوم مسلم اپنے نبی کی تعظیم و توقیر کرنے کی عیسائیوں سے زیادہ مستحق نہیں؟ کیا رسول ﷲ کی تشریف آوری اس دستر خوان سے بڑی نعمت نہیں ہے جس پر خوشی منا یا جائے؟تو کیا ان آیات سے دلالۃ النص کے طریقہ پر عید میلاد النبی کا ثبوت نہیں ملتا؟

احادیث نبویہ سے میلاد کا ثبوت :خود سرکار ﷺ نے اپنی میلاد ( پیدائش) کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’ بے شک میں ﷲ کے یہاں “ام ا لکتاب “میں اس وقت بھی “خاتم ا لنبیین” تھا جب آدم علیہ السلام مٹی کے گارے میں تھے ۔۔میں دعائے ابراہیمی اور اپنے بھائی عیسیٰ کی اپنی قوم کو دی گئی بشارت ہوں اور اپنی والدہ ماجدہ کا وہ نظارہ ہوں جو میری پیدائش کے وقت انہوں نے ایک نور کی شکل میں دیکھا تھا جس کی روشنی سے شام کے محلات چمک اٹھے (مشکواۃ ا لمصابیح ج: 2ص:513مطبوعہ مجلس برکات مبارکپور) ۔ایک موقع سے جب حضور ﷺ کو اپنے نسب میں طعن کی خبر پہونچی تو سرکار ﷺ نے منبر پرکھڑے ہوکر فرمایا بتاؤں میں کون ہوں ؟ سب نے عرض کیا آپ رسول ﷲ ہیں فرمایا میں محمد بن عبد ا لمطلب ہوں ﷲ نے مجھے بہترین مخلوق سے پیدا کیا ، مخلوق کو عرب اور عجم میں تقسیم کیا,تو مجھے عرب سے پیدا کیا عرب کے چند قبائل بنائے تو مجھے ان میں سب سے بہتر ( قریش) سے بنایا قریش کو چند خاندانوں میں بانٹا تو مجھے بہتر خاندان بنو ہاشم سے بنایا‘‘( ماخذ سابق) ایک موقع سے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’ میں قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہوں ( ماخذ سابق )اور آپ نے مزید فرمایا کہ ﷲ کے نزدیک اولین و آخرین میں سب سے زیادہ معزز ہوں لیکن میں اس پر فخر نہیں کرتا(مشکواۃ ا لمصابیح ج: 2ص : 514مطبوعہ مجلس برکات مبارکپور)۔مندرجہ بالا احادیث اور اس کے علاوہ صحاح ستہ کی کئی دیگر احادیث سے کیا پتہ نہیں چلتا کہ سرکار ﷺ کا جشن ولادت منانا خود سنت مصطفوی ہے ؟تو کیا ہم مسلم امہ سنت مصطفوی اپنانے کے حقدار نہیں؟

دلیل عقلی سے میلاد کا ثبوت : آج ہمارے سماج اور معاشرے میں کسی کے یہاں فرزند پیدا ہو, یا کسی کو حکومت و سیادت ملے تو وہ ہر سال اس تاریخ پر جشن منا تا ہے تو کیا جس تاریخ میں کائنات عالم کی سب سے انمول شئی “محمد عربی ﷺ”کی جلوہ گری ہوئی اس تاریخ کوخوشی و مسرت کا اظہار ناجائز ہوسکتا ہے ؟ عید میلاد النبی اور فقہا و محدثین جنہوں نے قرآن و حدیث کو ہم لوگوں سے زیادہ سمجھا ان پاکیزہ لوگوں کا میلا دا لنبی ﷺ کے تعلق سے کیا نظریہ ہے ؟؟ آئے ذیل میں اسے ملاحظہ کریں..
عظیم محدث امام نوی علیہ ا لرحمہ کے شیخ امام ابو شامہ( 665/599ھ)میلاد رحمت ا للعالمین کو بدعت حسنہ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ ﷲ شہر ’’اربل‘‘ کو حفظ و امان عطا کرے کہ اس بابرکت شہر میں ہرسال میلاد ا لنبی ﷺ کے موقع پر اظہار فرحت و سرور کے لئے صدقات و خیرات کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں یہ ایک حسین طریقہ ہے اگرچہ نو ایجاد ہے مگر اس کے حسین ہونے میں کوئی کلام نہیں کیوں کہ اس میں محبت نبی کا پہلو نکلتا ہے ( الباعث علی ا نکار ا لبدع و ا لحوادث ص: 13 )۔امام جلال ا لدین ا لسیوطی علیہ ا لرحمۃ (911/849ھ)اپنی کتاب ’’ حسن ا لمقصد فی عمل ا لمولد ‘‘ میں فرماتے ہیں سرکار ﷺ کا یوم ولادت اصل میں خوشی اور مسرت کا ایک ایسا موقع ہے جس میں لوگ جمع ہوکر آپ کے بارے میں منقول روایات کا تذکرہ کرتے اور ولادت مبارکہ کے معجزات اور خارق ا لعادات واقعات کا بیان کرتے ۔۔۔جس پر ثواب سے نوازا جاتا ہے‘‘ ۔ مشہورمحدث امام ابن جوزی ( 579/510 ھ)اپنے زمانے کے حالات نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تمام بلاد عرب کے باشندے میلاد ا لنبی ﷺ کی محفل منعقد کرتے ہیں جب ربیع ا لاول کا چاند دیکھتے تو ان کی خوشی کی انتہا نہ رہتی (ا لمیلاد ا لنبی ص 58)۔امام شمس ا لدین السخاوی ( 902/831 ھ) محفل میلاد میں شرکت کو موجب خیر و برکت اور باعث ثواب سمجھتے ہیں ۔ ( المورد ا لروی فی المو لد ا لنبی: ص:13/12) امام قسطلانی (1 923/85ھ)محفل میلاد کے فوائد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’ یہ تجربہ ہے کہ جس سال محفل میلاد منایا جاتا ہے وہ سال پر امن گزرتا ہے( قسطلانی : المواہب اللدنیہ ص: 147/1) ۔

امام ابن حجر مکی ( 973/909 ھ )محفل میلاد کی حمایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’ ہمارے یہاں میلاد کی جو محفلیں ہوتی ہے وہ زیادہ تر بھلے کاموں مثلاً حضور ﷺ پر درود و سلام پڑھنا ،غربا اور مساکین کی امداد و اعانت کرنے پر مشتمل ہوتی ہے ( فتاویٰ حدیثیہ ص 129 )۔امام زرقانی ( 1122/1055 ھ) عیدمیلاد ا لنبی ﷺکی حمایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں ’’ اہل اسلام ابتدائی تین ادوار (خیر ا لقرون) کے بعد سے ہمیشہ محفل میلاد ا لنبی ﷺ منعقد کرتے چلے آرہے ہیں یہ عمل’’ بدعت‘‘ ہے مگر ’’بدعت حسنہ ‘‘ ہے( شرح المواہب اللدنیہ 139/1: ) ۔ عظیم محدث علامہ جزری محفل میلاد کے قیام کو شیطان کی تذلیل اور اہل اسلام کی مسرت کا سبب قراردیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’ عیسائی جب اپنے نبی کی پیدائش پر جشن مناتے ہیں تو اہل اسلام آپ ﷺ کی تعظیم و توقیر کے زیادہ مستحق ہیں کہ آ پ کے یوم ولادت پر خوشی اور مسرت کا اظہار کریں ۔شیخ عبد ا لحق محدث دہلوی ( 1052/958 ھ) فرماتے ہیں کہ ’’ ہمیشہ سے مسلمانوں کا یہ دستور رہاہے کہ وہ ربیع ا لاول میں محفل میلادمنعقد کرکے خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہیں ( ماثبت من ا لسنۃ ص : 60) (مولوی اشرفعلی تھانوی کے پیر و مرشد حاجی امداد ﷲ مہاجر مکی ( 1317/1233 ھ ) فرماتے ہیں کہ فقیر کا مشرب یہ ہے محفل میلاد میں شریک ہوتا ہے بلکہ برکات کا ذریعہ سمجھ کر ہر سال منعقد کرتا ہوں اور قیام ( کھڑے ہوکر سلام پڑھنے )میں لطف و لذت پاتا ہوں ( فیصلہ ہفت مسئلہ ص : 9 ) ( تفصیل کے لئے دیکھیں المولد ا لنبی عند ا لائمۃ وا لمحدثین: از پروفیسر طاہر ا لقادری) مندرجہ بالا “اقوال فقہا و محدثین” سے کیا عید میلاد النبی پر خوشی و مسرت کا اظہار کرنا ثابت نہیں ہو تا؟,

مذکورہ بالا دلائل و براہین کے باوجود کچھ اعتراض کرتے ہیں کہ اس محفل پاک میں کچھ لوگ خرافات مچاتے ہیں اس لئے یہ محفل نا جائز ہونی چاہئے؟ اور اسی دن سرکار ﷺکا “وصال پر ملال” ہو ا لہذا غم منا نا چاہئے نہ کہ خوشی( *اسی لئے یہ لوگ بارہ ربیع ا لاول کو بارہ وفات کہتے ہیں ) پہلے کا الزامی جواب یہ ہے کہ جناب آپ کے” سر اقدس” میں درد ہو تو اس درد کا علاج کریں گے ؟ یا سر کاٹ کر پھینک دیں گے ؟ یونہی اگرآپ کی ناک شریف پر گندگی لگ جائے یا مکھی بیٹھ جائے تو کیااس گندگی اور مکھی کو ہٹائیں گے؟ یا سرے سے آپ اپنی ناک ہی کٹوا لیں گے ؟؟اور تحقیقی جواب یہ ہے کہ اگر کوئی بے و ضو نماز پڑھے یا حالت حدث میں خانہ کعبہ کا طواف کرے یا قرآن پا ک کو بغیر غلاف کے چھوئے تو کیا اسے ہمیشہ کے لئے نماز پڑھنے، خانہ کعبہ کا طواف کرنے اور قرآن چھونے سےہی منع کردیا جائے گا؟؟ یا پھر اسےوہ کام با وضو کرنے کو کہا جائے؟ اگر معاملہ ایسا ہی ہے ؟تو پھر کچھ چیزوں کو بنیاد بنا کر یوم ولادت مصطفی ﷺ کے موقع پر خوشی و مسرت کے اظہار کوسرے سے ناجائز کہنے کا آخر کیا جواز ہے ؟؟ ۔

اور ثانی کا جواب یہ ہے کہ مصائب و آلام ( مصیبتوں)کا سامنا صبر و تحمل ا ور برد باری سے کرنا چاہئے ( یو سف : آیت 18 ) اور ﷲ کے انعام و اکرام پر ہدیہ تشکر بجا لانا چاہئے ( ابراہیم :آیت : 7) مثلاً بچے کی پیدائش پر بطور شکریہ عقیقہ کرنے کا حکم دیا گیا (صحیح ا لبخاری ، کتاب ا لعقیقہ : ج 3 :ص: 547) اورانتقال پر قربانی کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ آہ و فغاں سے بھی منع کردیا گیا اور صبر کی تعلیم دی گئی ( سنن ابن ماجہ با ب ماجاء فی ا لجنائز266/2) علی ہذا القیاس رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے یوم پیدائش پر خوشی اور مسرت کے اظہار کا حکم دیاگیا ( یونس : آیت58 )اور آپ کے وصال پر غم منا نے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ کسی کے وصال کے تین دن بعد سوگ منانے سے بھی شریعت نے منع کیا( البتہ عورت شوہر کے مرنے پر چار مہینے دس دن سوگ منائے گی) ( صحیح ا لبخاری ، کتاب ا لجنائز 432/1 ) اور اس لئے بھی کہ ﷲ اور اس کے رسول نے انبیا کرام کے مصائب و آلام پر اور ان کی وفات پر غم منانے سے منع کیا لہذ سرکار ﷺ کے ولادت کے موقع سے خوشیاں نا منا کر غم منانے کا آخرکیا جواز ہے ؟؟

اعتراض اور اس کا علمی جواب سورہ یونس آیت 58 ’’تم فرماؤ اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوشیاں مناؤ‘‘ کی تفسیر میں ابن عباس، حسن اور قتادہ رضی اﷲ عنہم کے قول میں ﷲ کے فضل سے اسلام اور اس کی رحمت سے قرآن مراد ہے اس لئے اس سے سرکار ﷺ کی ذات مراد لینا اور عید میلادا لنبی ﷺ کی صحت پر استدلال قائم کرنا صحیح نہیں ؟۔ جواب: جب قرآن اور اسلام جیسی عظیم چیزوں پر خوشی منانے کا حکم ہے تو بھلا جس کے صدقے میں ہمیں قرآن اور اسلام مِلا بقول امام احمد رضا مجدد بریلوی.. وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو.. جان ہے وہ جہان کی جان ہے تو جہان ہے.. اگراس کی جلوہ گری نہ ہوتی توہم ان دونوں خوبیوں سے بہرہ ورنہ ہوتے کیونکہ’’ ہم توہلاکت و بر بادی کے دہانے پر تھے تو اس نے( اپنا محبوب بھیج کر)ہمیں بچا لیا” ( آل عمران آیت : 103 ) اور ان کے صدقے میں کائنات کی تخلیق ہوئی ( اخرجہ الحاکم فی المستدرک 615/2) ان کے صدقے میں تمام انبیاء کو نبوت ملی اور ان سے حضور کی نصرت و حمایت کا عہد و پیما ن لیا گیا۔(ملخص ازآلِ عمران آیت81) بلکہ ایسی ذات جس کی بعثت پر ﷲ تعالیٰ نے اہل ایمان پر احسان جتا یا ۔(آل عمران163) کیا اسکی ولادت پر خوشی اور مسرت کا اظہار ناجائز ہو گا ؟

اس مقام پر ایک “علمی نکتہ” بھی ذہن میں رہے کہ تفسیر میں سب سے بلند پایا مقام تفسیر قرآن بالقرآن (قرآن کی تفسیر قرآن سے )ہے لہذا سورہ یونس آیت 58 ’’ تم فر ماؤں ﷲ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوشیاں مناؤں‘‘ میں فضل خداوندی اور اس کے رحمت سے کیا مراد ہے ؟تو فضل خداوندی کی تفسیر دوسری آیت کریمہ ’’وکان فضل اﷲ علیک عظیما ً‘‘ تر جمہ اور ( اے محبوب ) تم پر ﷲ کا بڑا فضل ہے ۔ (النساء آیت113 ) اور رحمت خداوندی کی تفسیر آیت کریمہ ’’ وما ارسلنٰک الا رحمۃً العلمین‘‘ اے محبوب ہم نے آپ کو ساری کائنات کےلئے سراپا رحمت بنا کر بھیجا(الا نبیاء :آیت 107) ہے۔

اس لئے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیاخصوصی فضل خداوندی اور خاص رحمت الہی سے مراد سرکار ﷺ کی ذات نہیں ہے ؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو اس پر خوشی کا اظہار کر نا,قر آنی حکم کے مطابق نہیں ہے؟ اور کیا تفسیر قر آن بالقرآن کے مقابل تفسیرِ قرآن بخبرِ احاد استدلال کرنا زیادہ قوی ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے توایسے لوگوں نےاپنے اثبات میں آیت کریمہ کے مقابل ابن عباس وغیرہ رضی ا ﷲ عنہم اجمعین کے قول کو کیوں ترجیح دی؟اور اگر ان لوگوں نے اصول تفسیر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ا ن کے قول کو تفسیر قرآن با لقران پر ترجیح ہی دے دی تو اس سے خوشیاں نہ منانے کا حکم ان لوگوں نے کہاں سے اخذکرلیا؟کیوں کہ’’کوئی چیز ناجائز اور ممنوع اس وقت ہوتی ہے جب اسے ترک کردینے اور نہ کرنے کا حکم صریح آیاہو‘‘(المستصفی للغزالی:45/1)ناجائز و حرام وہ فعل ہے شرعاًجس کے فاعل کی مذمت کی گئی ہو ( شرح علی المنھاج للا سنوی : 60/1) ناجائز و حرام وہ فعل ہے جس کے فاعل کی مذمت اور تارک کی تعریف کی گئی ہو ( ارشادالفحول للشوکانی : ۱؍۲۴) (بحوالہ الحکم الشرعی : ص194 از پروفیسر طاہر القادری) اسی وجہ سے جمہور فقہاء اسلام نے کہا کے’’ اشیاء میں اصل اباحت ہے‘‘ (بخاری ، کشف الاسرار 95/3)اب مخالفین میلاد النبی بتائیں کہ عید میلادالنبی ﷺ کے موقع سے خوشیوں کا اظہار نہ کر نے پر کوئی نص (دلیل)رکھتے ہیں؟ حالانکہ “سلف صالحین” کے نزدیک جائز ہی نہیں بلکہ امر مباح اور باعث ثواب بھی ہے۔

بعض لوگ ا پنے دعویٰ ( ولادت مصطفوی ﷺ کے موقع سے خوشی منانا نا جائز ہے) کے اثبات میں آیت کریمہ ’’ وما ارسلنٰک الا رحمتہ العلمین‘‘ (انبیاء : ۱۰۷)کے ضمن میں تفسیر خزائن العرفان سے ابن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کا وہ قول ذکر کرتے ہیں جس میں حضور ﷺ کو ساری کائنات کیلئے عام رحمت بتایا گیا اور ایک روایت میں رحمت سے مراد ذات رسول ﷺ بتائی گئی لہذا ۔ایسے صاحب ذرا بتائیں کہ ایک شکر گزار بندہ عام رحمت الہی پا کر خوش ہو تا ہے یا نہیں؟ اور اس پر خوش ہونا صحیح ہے یا نہیں؟اگرجواب اثبات میں ہے تو بھلاایسی ذات جو ساری نعمتوں اور رحمتوں سے بڑھ کر سراپا رحمت بن کر کائنات عالم میں جلوہ فگن ہوئی اس کی ولادت پر خوشی منانا کیوں ناجائز ہوگا؟

ایک اعتراض اور اس کا علمی جواب یہ بھی کیا جاتا ہے ,سورہ یونس آیت’’ قل بفضل ا ﷲ و برحمتہ فبذلک فلیفرحوا ‘‘ سے عید میلا د ا لنبی ﷺ پر خوشیاں منانے کے لئے دلیل قائم کرنا درست نہیں کیوں کہ ’’فرح ‘‘ فعل متعدی نہیں بلکہ فعل لازم ہے جس کا معنیٰ خوش ہونا ہے اس لئے خوشیاں منانے کا اس سے ثبوت نہیں حالانکہ عربی گرامر کا مبتدی طا لب علم بھی جانتا ہے کہ فعل لازم کو متعدی کبھی باتعدیہ کے ذریعہ بنایا جاتا ہے اس لئے کہ حرف با دیگر معانی کے ساتھ تعدیہ کے لئے بھی آتاہے جیسا کہ شیخ سرا ج ا لدین عثمانی اودھی (م:758ھ) اپنی’’ کتاب ہدایۃ ا لنحو‘‘ص:103 پر اور علا مہ عبد ا لرحمٰن جامی (817ھ ۔898ھ)اپنی مشہور زمانہ کتاب’’ شرح ماتہ عامل‘‘ ص : ۳۰ پر فرماتے ہیں ک’’الباء ــــــــــــ ۔ ــ للتعدیۃ‘‘ یعنی حرف بافعل لازم کو متعدی بنانے کے لئے بھی آتا ہے لہذا اس ضابطہ کی روشنی میں فرح بمعنیٰ ’’خوش ہو نا‘‘اگر چہ فعل لازم ہے مگربفضل ﷲ و برحمتہ فبذلک فلیفرحوا میں حرف با نے لازم کو متعدی بنادیا اور ا س کا معنیٰ ’’خوشیاں منانا‘‘ بلاشبہ درست ہے مگر اس پر طرہ یہ کہ اسکو دیانت کے خلاف بتایا جاتا ۔ اوراز روئے ترکیب’’ بفضل ا ﷲ و برحمتہ فبذلک‘‘ کو چاہیں مذکور کا متعلق بنائیں یا محذوف کا دونو ں ہی صورت میں وہ “فلیفرحوا”کا متعلق ہے جیساکہ تفسیر جلالین ص: 125اور حاشیہ نمبر :18 پر محذوف کو متعلق قرار دیا گیا ہے’’ قل بفضل ﷲ و برحمتہ” متعلق محذوف دل علیہ مابعد وا لاصل فلیفرحوا بفضل اﷲ و برحمتہ فبذلک فلیفرحوا ‘‘ ہے ورنہ ’’اورتم فر ماؤں اﷲ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوش ہوجاؤ ‘‘ والاترجمہ کیوں کر صحیح ہوسکتا ہے ؟ اور اگر یہ حقیقت جاننے کے باوجود اس سے صرف نظر کیا جائے توکیا یہ دیانت داری کے خلاف نہیں؟ ۔

ایک اعتراض یہ بھی ہوتا ہے کہ اسلام سادگی کا مذہب ہے اس لئے شرعی دائرے میں بھی خوشی اور جشن منا نا جائز نہیں جب کہ ﷲ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی نعمتوں پر خوش ہو کر خوشی منا نے کا حکم سورہ یونس آیت نمبر ۵۸’’ اور تم فر ماؤں کہ ﷲ کے فضل اور اس کی رحمت پر خوشیاں مناؤں ‘‘میں واضح طور پر دیاہے، آیت کریمہ کی غلط توجیح کر کے قر آن مخالف اپنے نظر یات کو ثابت کر نے کی کوشش کرنا امانت داری کی خلاف ورزی اور امت کو گمراہ کر نے کی کوشش نہیں ہے؟ ؟ یہاں یہ بھی واضح کردوں خو شی کی ضد غم ہے اور سر کار ﷺ کی پیدائش کی خوشی میں غم منا نا شیطان لعین کا طریقہ کار ہے۔ دیکھئے (شرح شیخ زادہ علی ھوامش عصیدۃ الشہداء ص : 111)

آخر میں ولادت مصطفوی ﷺ کے موقع سے جشن کی مخالفت کرنے والوں پر فیصلہ چھوڑ تے ہیں کہ وہ رب کے حکم (ولادت مصطفوی ﷺ کے موقع سے خوشی منانا جائز ہے) پر چلنا پسند کر یں گے یا شیطان لعین کے (ولادت مصطفوی ﷺ کے موقع سے غم منانے کے )طریقہ کار پر ؟ نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاول…سوائے ابلیس کے جہان میں سبھی تو خوشیان منارہے ہیں. ﷲ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سب کو اپنے ایمان کی جان محمد مصطفی علیہ التحیۃ و الثنا سے سچی محبت کی توفیق دے ( آمین)

admin

Read Previous

Auto Draft

Read Next

علمائے حق اور علماء سو جہنم کا ایندھن کون ؟ دلائل و شواہد کی روشنی میں : مولانا محمدعارف حسین مصباحی برکاتی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *